ہوناور،19؍مئی (ایس او نیوز) ہوناور میں مجوزہ تجارتی بندرگاہ کی تعمیر کے سلسلے میں مقامی افراد اور ماہی گیروں کی مخالفت سے جو تنازع کھڑا ہوا ہے اس میں اب ایک نیا موڑ آیا ہے جس میں بندر گاہ کے مخالفین نے الزام لگایا ہے کہ تعمیراتی کام پر سوال اٹھانے والوں پر لاری چڑھا کر انہیں مار ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس ضمن میں ہوناور پولیس اسٹیشن میں معاملہ درج کیا گیا ہے ۔
بندر ہوراٹا سمیتی کے صدر راجیش ٹانڈیل کا کہنا ہے کہ ٹونکا کے ساحلی علاقے میں غیر قانونی طور پراور ضروری اجازت نامہ کے بغیر سڑک کی تعمیر کا شروع کیا گیا ہے ۔ یہ سمندری کچھووں کے انڈے دینے کا خاص مقام ہے ۔ ہم نے روکنا چاہا تو اچانک ہم لوگوں پر ٹرک چڑھاتے ہوئے ہمیں جان سے مارنے کی کوشش کی گئی اور پھر اس کے بعد ہم لوگوں پر جھوٹے معاملے درج کرکے ہمیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
ماہی گیروں کی انجمن کے ریاستی صدر چندرکانت کوٹریکر کا کہنا ہے کہ مجوزہ بندرگاہ منصوبے کا کام بالکل غیر قانونی طور پر انجام دینے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ سی آر زیڈ اور ماحولیاتی قوانین کو نظر انداز کرنے کے علاوہ عدالتی احکام کی بھی خلاف ورزی کرتے ہوئے کچی سڑک تعمیر کرنے کے لئے مٹی اور جیلی وغیرہ کا ذخیرہ کیا جارہا ہے ۔ اس پر سوال اٹھانے والوں پر ٹرک چڑھا کر انہیں مار ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ سرکاری سطح پر اس میں مداخلت ہونی چاہیے اور عدالت میں داخل کی گئی اپیل پر فیصلہ آنے تک ہر قسم کا کام روکنے کی ہدایت جاری کی جانی چاہیے۔